دورہ بھارت سے قبل لی مین کے پسینے چھوٹنے لگے

سڈنی: دورہ بھارت سے قبل ہی آسٹریلوی کوچ اور کپتان کے پسینے چھوٹنے لگے، ڈیرن لی مین نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنے بیٹسمینوں کی پرفارمنس کو ناکافی قرار دیدیا، وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں طویل دورانیہ تک بیٹنگ کرنا ہوگی، ہر اننگز میں 150سے زائد اوورز تک کھیل کر ہی بڑا مجموعی بورڈ پر سجا پائیں گے۔ دوسری جانب اسٹیون اسمتھ کی آنکھوں کے آگے گذشتہ دورے کا انجام گھوم رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے کامیابی کے دوران آسٹریلیا کی جانب سے 7 سنچریاں اسکور کی گئیں مگر کوچ ڈیرن لی مین اس کو ناکافی سمجھتے ہیں، انھوں نے کھلاڑیوں پر زوردیا ہے کہ وہ بھارت کے مشکل ترین ٹور پر خود کو انتہائی مشقت کیلیے تیار کرلیں۔ آسٹریلیا کی جانب سے دورہ بھارت کیلیے اسکواڈ کا اعلان رواں ہفتے متوقع ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سڈنی ٹیسٹ کے 13 رکنی اسکواڈ میں سے زیادہ تر کو برقرار رکھا جائے گا جب کہ شان مارش کے ہمراہ دو دوسرے کھلاڑیوں کو طلب کیا جاسکتا ہے جن میں ایک فاسٹ بولر اور ایک اضافی بیٹنگ آل راؤنڈر ہوسکتے ہیں۔

سب سے زیادہ توجہ اسپن تگڑی ناتھن لیون، اسٹیو او کیف اورایشٹن ایگر پر ہوگی مگر کوچ کو اسپن کے بجائے بیٹنگ کی فکر ستائے جارہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جتنا زیادہ دیر تک ہم بیٹنگ کریں گے اتنا ہی وہ ہمارے لیے اہم ثابت ہوگی، ہمارے سامنے انگلینڈ کی مثال موجود ہے جنھوں نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا، اگرچہ وہ وہاں پر اچھا اسکور بنانے میں کامیاب ہوئے مگر وہ بھی ناکافی ثابت ہوا، ہم نے سڈنی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 135 اوورز تک بیٹنگ کی لیکن بھارت میں اسکور بورڈ پر بڑا مجموعہ سجانے کیلیے ہمیں 150 سے زائد اوورز تک بیٹنگ کرنا ہوگی۔

دوسری جانب کپتان اسٹیون اسمتھ توقعات کے اظہار میں احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ ان کے سامنے 2013 کا دورہ بھارت ہے جس میں کینگروز کو 4-0 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت میں ایک کافی مشکل سیریز ثابت ہوگی، اگر ہم وہاں پر خود کو مسابقتی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی۔

via: Express news