گرمیوں کی حرارت سے سردیوں میں گرم رہیے  

گال: سوئٹزرلینڈ کے انجینئروں نے گرمیوں میں حرارت جمع کرکے سردیوں میں اسے ایک بٹن دباکر خارج کرنے والے نظام کا ابتدائی نمونہ (پروٹوٹائپ) تیار کرلیا ہے۔

اسی سسٹم میں کچھ تبدیلیاں کرکے محفوظ کردہ حرارت کو ایک سے دوسری جگہ بھی بہ آسانی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے علاقے گال میں واقع مختلف مادوں کی تیاری اور جانچ کی تجربہ گاہ (ای ایم پی اے) نےانتہائی مرتکز سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ (NaOH) استعمال کرتے ہوئے حرارت جمع کرنے والا ایک نظام بنایا ہے جو ضرورت کے وقت حرارت خارج کرسکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ جب خشک سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ پر پانی ڈالا جائے تو حرارت خارج کرنے والا ری ایکش ہوتا۔ یعنی سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ میں موجود کیمیائی توانائی حرارت کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ NaOH اپنی کیفیت میں ہائیگروسکوپک ہوتا ہے یعنی اپنے اطراف سے پانی کے مالیکیول جمع کرکے انہیں اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہوا میں موجود پانی کے بخارات سے مزید حرارت پیدا کی جاسکتی ہے۔ پھر حرارت خارج کرنے کے لیے صرف اس پر پانی ڈالنا ہوگا۔

مثلاً سورج کی حرارت کو سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ اور پانی کے محلول پر ڈالا جائے تو نمی بھاپ بن کر اڑے گی جس سے محلول مزید مرتکز (کنسرٹیٹڈ) ہوجائے گا اور اس میں حرارت محفوظ ہوجائے گی۔ اس محلول کو کئی ماہ بلکہ سال بھر تک اسٹور میں رکھا جاسکتا ہے۔ پھرضرورت کے وقت دوبارہ پانی ڈال کر اس سے حرارت باہر نکالی جاسکتی ہے۔

عملی طور پر 50 فیصد NaOH کے گاڑھے محلول کو مرغولہ دار (اسپائرل) پائپوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ محلول ایک سے دوسری جگہ بہتے ہوئے پانی کے مزید بخارات کو جمع کرتا ہے۔ اس کے بعد حرارت کو حسبِ ضرورت خارج کرایا جاسکتا ہے۔

اس عمل میں سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ کا محلول، ہیٹ ایکسچینجر کے گھومتے ہوئے چھلے میں جاتا ہے جہاں محلول مزید ہلکا ہوکر 30 فیصد تک رہ جاتا ہے جو پانی ڈالنے پر اسے 50 درجے سینٹی گریڈ تک گرم کرسکتا ہے اور اسے مکانوں کے اندر پائپوں کے ذریعے گھر کو گرم رکھا جاسکتا ہے۔

فی الحال ای ایم پی اے ایسی کمپنیوں کی تلاش میں ہے جو اس ایجاد کو تجارتی پیمانے تک لے جاسکیں۔ اس کا ایک چھوٹا سسٹم گھریلو استعمال کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔

via: Express news