تصویر کشی کی نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے امراض کی ابتدائی شناخت ممکن

لاس اینجلس: ایکس رے، سی ٹی اور ایم آرآئی سے امراض کی شناخت میں بہت مدد ملی ہے لیکن اب ایک نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے پیچیدہ امراض کی شناخت مزید ممکن ہوجائے گی۔

اس ٹیکنالوجی کی ابتدائی آزمائش بہت حوصلہ افزا ثابت ہوئی ہے۔ ہائپر اسپیکٹرل فیزر نامی اس تکنیک کو ایچ وائی ایس پی کا مختصر نام دیا گیا ہے اور اسے بطورِ خاص طبیب استعمال کریں گے۔ اس عمل کے بعد تصاویر کو ایک کمپیوٹر الگورتھم سے گزارا جاتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سالمات (مالیکیولز) مختلف طول موج ( ویولینتھ) کی روشنی میں مختلف انداز میں چمکتے ہیں ۔ اسطرح کسی بھی مالیکیول کی تندرستی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے مرض کی انتہائی ابتدائی کیفیت معلوم کی جاسکتی ہے۔ ’ اس طریقے سے کئی اہداف کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے،‘ اس پر تحقیق کرنے والے سائنسدان فرانسیسکو کیوٹرالے نے کہا جو حیاتیاتی تصویر کشی کے ماہر ہیں۔

یہ ایک اہم طریقہ ہے جس کے ذریعے مرض کی ابتدا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایچ وائی ایس پی ایک ہی مرحلے میں ساری تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے طریقوں میں ہر ایک تصویر کو بار بار الگورتھم سے گزارنا پڑتا ہے جو مہنگا اور وقت طلب عمل ہے۔ یعنی جسم کے خلیات میں مالیکیول کی سطح پر 18 تبدیلیوں کو ایک ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

فی الحال اسے ایک چھوٹی مچھلی زیبرا فش پر آزمایا گیا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں انسانوں پر اس کی آزمائش کی جاسکے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص پھیپھڑے تباہ کرنے والے کیمیکلز کے سامنے جاتا ہے تو اس کے پھیپھڑے میں ہونے والی ابتدائی تبدیلیوں کو صحت مند پھیپھڑوں سے موازنے کے بعد شروع میں ہی بگاڑ کو نوٹ کرکے بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔ اس تکنیک سے کینسر سے لے کر اعضا کی ناکارہ ہوجانے کے عمل کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔

via: Express news