آب و ہوا میں تبدیلی سے زرخیز مٹی میں نمایاں تبدیلی واقع ہونے کا خدشہ

میلبرن: آب و ہوا میں تبدیلی یا کلائمٹ چینج کا ذکر آپ نے بار بار پڑھا ہوگا جو ہماری زندگی اور اطراف کے قدرتی ماحول کو بری طرح متاثر کر رہا ہے لیکن اب اس کی وجہ سے زرخیز مٹی میں بھی کئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو اچھا شگون نہیں ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز آفس برائے ماحولیات آسٹریلیا کے سینیئر سائنسدان جوناتھن گرے اور ان کے ساتھیوں نے ڈجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مٹی میں موجود نامیاتی کاربن کی کمی بیشی کا جائزہ لیا۔ جوناتھن کہتے ہیں کہ مٹی میں موجود نامیاتی (آرگینک) کاربن مٹی کی صحت کو ظاہر کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے مٹی کی زرخیزی اور پانی کو گرفت میں لینے کی قوت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے کلائمٹ چینج کے 12 ماڈلوں کو دیکھتے ہوئے مٹی میں نامیاتی کاربن کی کمی بیشی کا جائزہ لیا اور اس میں جنوب مشرقی آسٹریلیا اور نیو ساؤتھ ویلز کے علاقوں کا مطالعہ کیا گیا۔

جوناتھن گرے کے مطابق اکثر ماڈل بتاتے ہیں کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے مٹی کی زرخیزی (یعنی نامیاتی کاربن) میں نمایاں کمی واقع ہو گی تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ موسمیاتی ماڈلوں میں تسلسل نہیں جس کی وجہ سے حقیقت سے قریب ترین حالات کی پیشگوئی ممکن نہیں لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی مٹی کو تبدیل ضرور کرے گی۔

ماہرین نے مختلف موسموں اور کیفیات میں نامیاتی کاربن ضائع ہونے کی پیشگوئی بھی کی ہے۔ اگر زمین ریتیلی یا کم زرخیز  ہے تو ایک ہیکٹر زمین پر ایک ٹن سے کچھ کم نامیاتی کاربن کم ہو جائے گا لیکن اگر بہت زرخیز مٹی میں گارے کی بہتات ہے تو ایک ہیکٹر اراضی پر کاربن ختم ہونے کی شرح 15 گنا ذیادہ ہوتی ہے، یعنی زمین جتنی زرخیز ہوگی موسمیاتی تبدیلیاں اس کا اتنا ہی کاربن تباہ کریں گی۔

ماہرین کے مطابق یہ ماڈلنگ زمین کی زرخیزی اور مٹی کے معیار کے جانچنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ مٹی میں نامیاتی کاربن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ برطانوی ماہرین نے زور دیا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس طرح کے اہم سروے کئے جائیں تاکہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں زراعت کی حفاظت کی جاسکے۔

via: Express news