یہ بھاری بھر کم نوجوان لڑکی اب کیسی دکھتی ہے ؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

نیو یارک (نیوز ڈیسک ) موٹاپا حد سے بڑھ جائے تو اسے قابو کرنا آسان نہیں رہتا مگر امریکی خاتون جیسیکا ویبر نے محض ایک سال میں ایسا کمال کر دکھایا کہ لوگوں کے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

اخبار دی اینڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق جیسیکا بچپن سے ہی گوشت ، آلو ، پاستا اور مرغن غذاؤں کی شوقین تھیں۔ ان کا وزن تیزی سے بڑھتا چلا گیا اور جب وہ 22 سال کی تھیں تو ان کا وزن تقریبا 160 کلو گرام ہو چکا تھا۔ بے قابو موٹاپے کی وجہ سے جیسیکا کی زندگی عذاب بن چکی تھی اور وہ سوچنے لگی تھیں کہ اب بھی کچھ نہ کیا تو زندہ رہنا مشکل ہو گا۔ جیسیکا کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں کسی دوست نے ورٹیکل سلیو گیسٹرانومی کا مشورہ دیا، وہ پہلے تو ہچکچاہٹ کی شکار تھیں لیکن بلا آخر اس آپریشن کیلئے تیار ہو گئیں۔ ڈاکٹروں نے ان کا آپریشن کر دیا تو ان کی خوراک بھی کم ہو گئی اور ساتھ ہی انہوں نے پروٹین اور پھلوں پر مشتمل غذا کا استعمال بھی باقاعدگی سے شروع کر دیا۔ محض ایک سال کی محنت کے بعد ان کا وزن تقریباً نصف رہ گیا ہے۔
جیسیکا اس خوشگوار تبدیلی پر بہت مسرور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موٹاپے کا شکار افراد کو بتانا چاہتی ہیں کہ مایوس ہو کر دکھ سہتے رہنے کی بجائے درست رہنمائی حاصل کریں اور آج ہی اپنی زندگی بدلنے کا عزم کریں، کامیابی یقیناًآپ کے قدم چومے گی۔

via: Daily pakistan