سپریم کورٹ کی پاناما لیکس میں خصوصی دلچسپی ہے ، منتخب عوامی نمائندوں سے تحقیقات کی جاسکتی ہیں: سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس کے معاملے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے ، ہوسکتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کو ایک کیٹگری میں رکھ کر تحقیقات کی جائیں اگر پاناما میں جا کر تحقیقات کرنے کی بات کی گئی تو پھر معاملہ لٹک جائے گا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس بذات خود ثبوت نہیں ہیں بلکہ یہ کیس قائم کرنے کیلئے اشارہ ہیں۔ پیر کو اگر نواز شریف کے بچے لندن کی پراپرٹیز کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ہماری ہیں تو انہیں پیسے کی ترسیل کے ذرائع بتانے ہوں گے۔ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ پیسے کی ترسیل کے حوالے سے معاملات کلیئر نہیں ہیں تو مزید سوالات پوچھ سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے بارے میں اگر یہ بات کی جائے کہ پاناما میں جا کر تحقیقات کی جائیں تو معاملہ لٹک جائے گا کیونکہ پاناما کے راز داری کے قوانین انتہائی سخت ہیں جنہیں ہمارا کوئی عدالتی کمیشن بھی چیلنج نہیں کرسکتا۔

ایک سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا عدالت کا میاں نواز شریف کے بچوں سے جواب مانگنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالت اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ کس کس کو شامل تفتیش کرتی ہے۔ دنیا بھر میں کرپشن کی تحقیقات کے دوران ملزم کے ساتھ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ پاناما لیکس کے معاملے میں بھی پبلک آفس ہولڈرز یا سابقہ و موجودہ حکمرانوں اور ان کے رشتہ داروں کو ایک کیٹگری اور کاروباری یا دیگر افراد کو علیحدہ کیٹگری میں رکھ کر تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔

via: Daily Pakistan