عراق میں داعش کے 36جنگجوﺅں کو پھانسی دیدی گئی

نصیریہ(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق نے 2014ءمیں سینکڑوں فوجی ریکروٹوں کے قتل عام کا جرم ثابت ہونے پر داعش کے 36جنگجوﺅں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا ۔یہ افراد تکریت کے قریب واقع بیس پر حملے اور 1700سے زائد فوجی اہلکاروں کے اغواءمیں ملوث تھے جن کا بعدازاں قتل عام کیاگیا اور داعش نے ذمہ داری قبول کی تھی اور قتل عام کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں مغویوں کو زمین پر لٹاکر گولیوں کا نشانہ بناتے دکھایاگیاتھا۔
عرب نیوز کے مطابق 36مجرموں کو اتوار کی صبح نصیریہ جیل میں پھانسی دی گئی جس کی تصدیق گورنرآفس کے ترجمان نے بھی کردی، گورنر یحیٰ النصیری اور وزیر انصاف حیدرالظالمی پھانسی کے امورکی نگرانی کیلئے موقع پر موجود تھے ۔ ترجمان نے مزید بتایاکہ صدر کی منظوری کے بعد گزشتہ ہفتے مجرموں کو نصیریہ منتقل کردیاگیاتھا۔اے ایف پی کے مطابق گورنر نے تصدیق کی کہ ملزموں کو پھانسی دے کر موت کی وادی میں دھکیل دیاگیاجبکہ ترجمان نے بتایاکہ ’سپائیچر قتل عام ‘ کے 400افراد کا تعلق دھکارصوبے سے ہی تھا جس میں اکثریت شیعہ آبادی ہے اور یہ عراق کے جنوب میں واقع ہے ۔

Source: Daily Pakistan