سال 2016ء فلم انڈسٹری کیلئے کیسا رہا؟

سال 2016ء پاکستان کی فلم انڈسٹری کے لئے نئی امیدوں اور اُمنگوں کا سورج لے کر طلوع ہوا۔ گزشتہ برس 2015ء میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے سینما گھروں پر بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے ساتھ ہر ممکن مقابلہ کرکے باکس آفس کا 30 فیصد بزنس اپنے نام کرنے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ دم توڑتی پاکستانی فلم انڈسٹری مستحکم ہوچکی ہے اور اب بہت جلد بالی ووڈ نام کی بیساکھی کے بغیر بھی پاکستانی فلم بین سینما گھروں کا رُخ کریں گے۔ تاہم یہ سوچ رواں سال کے اختتام تک اُس وقت تبدیل ہوگئی جب 18 ستمبر کو بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب فوج ہیڈ کوارٹر پر حملہ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد سرحد پر پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعہ نے سنگین صورتحال اختیار کرلی جس کے باعث پاک بھارت ثقافتی معاملات بُری طرح متاثر ہوئے۔ جس کا جائزہ بلاگ میں پیش کیا جارہا ہے۔

2016ء پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ میں اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس نے ایک سال کے دوران کئی اُتار چڑھاؤ دیکھے۔ رواں سال اِس وجہ سے بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد جس تسلسل سے امسال تقریباً 30 فلمیں ریلیز ہوئی ایسا 70 کی دہائی کے بعد سال 2016ء میں دیکھا گیا، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ کثیر تعداد میں ریلیز ہونے والی ان فلموں میں سے ایک، دو ہی معیار پر پوری اتر سکیں۔

2016ء میں ریلیز ہونے والی فلموں میں ’ہو من جہاں‘، ’بچانا‘، ’مالک‘، ’ہجرت‘، ’ماہ میر‘، ’ہوٹل‘، ’عکسبندھ‘، ’سوال سات سو کروڑ ڈالر کا‘، ’عشق پازیٹیو‘، ’ریوینج آف دا ورتھ لیس‘، ’بلائینڈ لو‘، ’ڈانس کہانی‘، ’تیری میری لو اسٹوری‘، ’جانان‘، ’ایکٹر ان لاء‘، ’زندگی کتنی حسین ہے‘، ’عبداللہ دی فائنل وٹنس‘، ’جیون ہاتھی‘، ’لاہور سے آگے‘، ’رحم‘، ’دوبارہ پھر سے‘، ’8969‘، ’سلیوٹ‘، ’3 بہادر پارٹ 2، ریوینج آف بابا بلام‘ اور ’سایہء خدائے ذوالجلال‘ شامل ہیں۔

جنوری

رواں سال کا آغاز ہدایت کار عاصم رضا کی فلم ’’ہو من جہاں‘‘ کی ریلیز سے ہوا جس کی اسٹار کاسٹ میں ماہرہ خان، عدیل حسین، شہریار منور صدیقی اور سونیا جہاں شامل تھے، لیکن فلم بینوں اور فلم ناقدین کو متاثر کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ بے جا برانڈنگ کے باعث فلم کو بُری طرح تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ فلم کی ریلیز 2016ء میں نہیں، بلکہ یہ فلم 28 دسمبر 2015 کو ہوئی تھی، لیکن سال کے آخر میں ریلیز ہونے کی وجہ سے اِس فلم کو 2016ء کے کھاتے میں ہی شامل کیا جاتا ہے۔

فروری

ماہِ فروری کے آخر میں اداکارہ صنم سعید اور محب مرزا کی فلم ’’بچانا‘‘ نمائش کے لئے پیش کی گئی جس کی ہدایات ناصر خان نے دیں۔ فلم کو ناقدین اور فلم شائقین کی جانب سے ملا جُلا ردِعمل ملا۔

مارچ، اپریل

مارچ کے مہینہ میں سینما گھر پاکستانی فلم سے محروم رہے، تاہم اپریل میں اس سال کی متنازع فلم ’’مالک‘‘ ریلیز ہوئی جو پورا سال شہ سرخیوں میں رہی۔ فلم مالک کے ہدایت کار، مصنف اور مرکزی کردار عاشرعظیم ہیں۔ فلم مالک پر نمائش کے تین ہفتے بعد سنسر بورڈ کی قینچی چل گئیاور فلم پر وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب موشن پکچرز آرڈیننس کی شق 9 کے تحت 266 اپریل کو نہ صرف پابندی عائد کردی گئی بلکہ فلم کی برآمد پر پابندی لگا کرعالمی سطح پر فلم کی نمائش کو روکا گیا۔ فلم مالک کو ناقدین کی جانب سے ملے جلے رجحانات کا سامنا رہا۔ فلم پر عائد پابندی 6 ستمبر کو ختم کردی گئی لیکن پابندی ایسے وقت میں ختم کی گئی جب تین پاکستانی فلمیں ریلیز کے لئے تیار تھیں اور مالک کو اسکرین پر جگہ حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اپریل کے ہی مہینہ میں ہدایت کار فاروق مینگل فلم ’’ہجرت‘‘ کے ساتھ میدان میں آئے لیکن اُن کی فلم نے نہ صرف ناقدین کو مایوس کیا بلکہ فلم بینوں کی اُمیدوں پر بھی پورا اترنے میں ناکام رہی۔ اگرچہ فلم کا موضوع تو قابلِ تعریف تھا کیونکہ افغانستان جنگ کے تناظر میں بننے والی اس رومانوی فلم میں افغان مہاجرین کو پیش آنے والے مسائل کی بھی عکاسی کی گئی جو اس سے قبل نہیں کی گئی تھی، مگر جس معیار پر اِس فلم کو بنانا چاہیے تھا اُس معیار پر فلم نہ بن سکی اور اِسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

مئی

مئی میں اِس سال کی نمایاں اور بہترین فلم ’’ماہ میر‘‘ ریلیز ہوئی جس کی ہدایت انجم شہزاد نے دی، جبکہ اِس کی کہانی سرمد صہبائی نے لکھی۔ فلم کی کاسٹ میں اداکار فہد مصطفی، ایمان علی، منظر صہبائی، صنم سعید و دیگر شامل ہیں۔ فلم ’’ماہ میر‘‘ ہر لحاظ سے فلمی معیار پر پوری اترتی ہے کیونکہ اِس فلم میں بہترین کہانی سے لے کر بہترین ہدایت کاری، مکالمہ بازی سے لے کر اداکاری تک سب عمدہ ہیں۔ تاہم ادبی موضوع ہونے کے باعث فلم کمرشل فلموں جیسا بزنس نہ کرسکی لیکن فلم نے ناظرین کی جانب سے خوب داد وصول کی بلکہ فلم کو عالمی فلم میلوں میں نمائش کے لئے بھی پیش کیا جارہا ہے اور اگلے برس ہونے والے آسکر ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔ یہ فلم نہ صرف پاکستانی فلمی صنعت کے لیے گوہر نایاب کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ فلم کے طالبعلموں کے لیے بہترین موضوع ثابت ہوگی۔

مئی کے مہینے میں جہاں ماہ میر جیسی شاندار اور یادگار فلم بڑے پردے کی زینت بنی وہیں میرا جی کی سائیکو تھرلر فلم ’’ہوٹل‘‘ بھی ریلیز ہوئی، جسے دیکھنے والے داد کے حقدار ہیں کیونکہ شاید فلم کے ہدایت کار خالد حسن خان خود بھی اس بات سے انجان ہیں کہ انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو ہوٹل کی صورت میں کیسا شاہکار دیا ہے۔ یہ فلم لوگوں کے دلوں میں تو جگہ بنانے میں کامیابی حاصل نہ کرسکی لیکن سال کی بدترین فلموں کی فہرست میں جگہ بنانے میں ضرور کامیاب ہوئی۔

مئی کا مہینہ پاکستانی سینما کے حوالے سے اِس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اِس ماہ تین فلمیں ریلیز ہوئیں اور پاکستان کی پہلی فاؤنڈ فوٹیج ہارر فلم ’’عکسبندھ‘‘ بھی اِسی ماہ ریلیز ہوئی جو توقعات کے برعکس فلمی ناقدین اور فلم بینوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی۔ کم بجٹ میں بننے والی یہ فلم دیکھنے والوں کو فلم سے باندھے رکھتی ہے۔ فلم کی کہانی ڈراؤنی ضرور تھی لیکن فلم کے مصنف نے مزاح کے تڑکے کا بھی پورا خیال رکھا۔

جون، جولائی

جون کے مہینہ میں ماہِ رمضان کے احترام کے سبب کسی فلم ساز نے کوئی فلم ریلیز نہیں کی تاہم جولائی میں عیدالفطر کے موقع پر ایکشن فلم ’’سوال سات سو کروڑ ڈالر کا‘‘ ریلیز ہوئی جس کی ہدایت جمشید جان محمد نے دی۔ فلم میں غلام محی الدین کے صاحبزادے عامر محی الدین بطور مرکزی اداکار متعارف ہوئے۔ مگر اپنی کہانی اور دیگر غلطیوں کی وجہ سے فلم بُری طرح تنقید کا نشانہ بنی۔

اسی ماہ اداکارہ نور کی رومانوی فلم ’عشق پازیٹیو‘ سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی، جس کی موسیقی کو خوب پسند کیا گیا لیکن فلم کی روایتی کہانی کی بدولت فلم بینوں کو متاثر نہ کرسکی۔

جولائی میں ہی جمال شاہ کی فلم ’’ریوینج آف دا ورتھ لیس‘‘ بھی ریلیز ہوئی جس میں 2009ء میں سوات میں ہونے والے واقعات کی عکاسی کی گئی۔ کہانی بامقصد ہونے کے باوجود فلم تکنیکی معیار پر پوری نہ اتر سکی اور باکس آفس کی دوڑ میں کامیابی نہ حاصل کرسکی۔

اگست

اگست میں فیصل بخاری کی ہدایت میں بننے والی فلم ’’بلائنڈ لو‘‘ سینما گھروں کی زینت بنی، جو کہ کمزور کہانی، بُری ہدایت کاری اور غیر مناسب اداکاری کے باعث رواں سال کی بدترین فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی۔ اسی ماہ عمر حسن کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’’ڈانس کہانی‘‘ بھی ریلیز کے لئے پیش کی گئی۔ رقص کے موضوع پر بننے والی اس فلم میں غیر ملکی اداکارہ میڈیلین حنا نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یوں تو یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کرسکی لیکن اپنے موضوع، کہانی اور اداکاری پر داد کی حقدار بنی۔

ستمبر

ماہِ ستمبر میں ’ڈاکٹر بلا‘ سے شہرت پانے والے جواد بشیر رومان اور مزاح پر مبنی فلم ’’تیری میری لو اسٹوری‘‘ کے ساتھ میدان میں آئے تاہم ان کی یہ کوشش بُری طرح ناکام ہوئی۔ بے ہنگم کہانی، خراب ہدایت کاری اور بے جان اداکاری نے اسے شکست کا سامنا کروایا۔

ستمبر کا مہینہ اس حوالے سے بھی یادگار ثابت ہوا کہ پہلی بار عید کے موقع پر تین پاکستانی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئی جن میں ’’جانان‘‘، ’’ایکٹر ان لاء‘‘ اور ’’زندگی کتنی حسین ہے‘‘ شامل ہیں۔ ان تینوں فلموں کو خوب سراہا گیا کیونکہ سال کے آغاز میں ریلیز ہونے والی فلموں کے مقابلے میں یہ فلمیں بہت بہتر تھیں۔ ’’جانان‘‘ کی مضبوط مارکیٹنگ نے اسے عالمی سطح پر بھی شہرت دلوائی۔ جبکہ ’’ایکٹر ان لاء‘‘ کی مضبوط اسٹوری لائن، بہترین ہدایتکاری اور اداکاری نے اسے خوب داد دلوائی۔

’’زندگی کتنی حسین ہے‘‘، ڈرامہ اور رومانس کے موضوع پر بننے کے باعث ہلکے تفریحی موضوع، رومان اور مزاح پر مبنی دونوں فلموں کے مقابلے میں باکس آفس کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی۔ تاہم یہ بات کہنا کسی بھی صورت مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ ستمبر میں ریلیز ہونے والی فلموں نے پاکستانی فلم بینوں کا اعتماد جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ستمبر کا مہینہ اس حوالے سے بھی اہم ثابت ہوا کہ اِس نے مقامی فلم سازوں کی تمام تر مبالغہ آرائی دور کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ بالی ووڈ فلموں کے بغیر فی الوقت پاکستانی فلم انڈسٹری کی بقاء بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اُڑی حملہ کے بعد بھارتی فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کی بھارت میں کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی، جس کے پیشِ نظر پاکستانی سینما مالکان نے بالی ووڈ فلموں پر خود ساختہ پابندی عائد کی جس پر فلم بین اور ناقدین کی جانب سے کافی واویلا مچا اور اُسے احمقانہ ردِعمل قرار دیا گیا لیکن سینما مالکان کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔ اُمید تو یہی تھی کہ بھارتی فلموں کی پابندی کے باوجود بھی پاکستانی سینما پر عوام کا رش برقرار رہے گا مگر نوبت یہ آگئی ہے کہ ریلیز کردہ پاکستانی فلمیں بھی بُری طرح متاثر ہوئیں اور سینما گھر ویرانی کا شکار ہوگئے۔ اسکرینز خالی ہوگئیں، تیزی سے تعمیر ہوتے نئے سینما گھروں کا کام روک دیا گیا اور سینما اندسٹری سے منسلک 1500 سے زائد افراد بے روزگار ہوگئے اور نئی امیدوں سے طلوع ہوا پاکستان فلم انڈسٹری کا سورج گرہن زدہ ہوگیا۔

اکتوبر

اکتوبر میں عمران عباس کی فلم ’’عبداللہ‘‘ ریلیز ہوئی جو کہ 2011ء میں خروٹ آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعہ پر مبنی تھی۔ اگرچہ فلم کو تو بس مناسب ہی رسپانس ملا، تاہم فلم کی ہدایت کاری کو خوب سراہا گیا۔

نومبر

نومبر میں سینما گھروں میں چار پاکستانی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں، جس میں ’’جیون ہاتھی‘‘، ’’لاہور سے آگے‘‘، ’’رحم‘‘ اور ’’دوبارہ پھر سے‘‘ شامل ہیں۔ ’’جیون ہاتھی‘‘ فلمساز مینو اور فرجاد کی ہدایت کاری میں بننے والی ڈارک کامیڈی فلم ہے جو کہ انتہائی بُری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔

’’لاہور سے آگے‘‘ وجاہت رؤف کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’کراچی سے لاہور‘‘ کا سیکوئیل تھی۔ اس فلم نے کمرشل فلم کے لوازمات ہونے کے باعث باکس آفس پر مناسب رجحان قائم کیا لیکن ساتھ ہی یہ ثابت کردیا کہ فلم کے لیے بڑا بجٹ نہیں بلکہ تخلیقی ذہن درکار ہوتا ہے۔

اسی ماہ شیکسپیئر کے ڈرامہ پر مبنی فلم ’’رحم‘‘ بھی پیش کی گئی جس کی ریلیز کا کسی کو کچھ علم نہ ہوسکا کیونکہ فلم کی مارکیٹنگ ہی نہیں کی گئی تھی۔ اِس ماہ کے آخر میں معروف ہدایتکار مہرین جبار نے 9 سال بعد فلم ’’دوبارہ پھر سے‘‘ کے ساتھ بڑے پردے پر دوبارہ انٹری ماری۔ اُن کی فلم سے فلم بینوں کو کافی توقعات تھیں جو کہ پوری نہ ہوسکیں۔ فلم تمام کمرشل عناصر کا احاطہ کئے ہوئے ہے لیکن فلم میں سرپرائز کا عنصر ہی نہیں رکھا گیا فلم کی کہانی ایک ہی رخ میں جاتی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم فلم کو قدرے مناسب تبصرے ملے۔

دسمبر

دسبمر میں فلم ’’8969‘‘ ریلیز کی گئی جو بُری طرح ناکام ہوئی جبکہ فلم کا لگا ہوا شو بھی اتار دیا گیا۔ شہزاد رفیق نے اعتزاز احسن کو فلم ’’سلیوٹ‘‘ کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا۔ بامقصد کہانی ہونے کے باوجود فلم کو ناقدین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ برس ریلیز ہونے والی اینی میٹڈ فلم ’’تین بہادر‘‘ کا سیکوئیل ’’تین بہادر پارٹ 2 ریوینج آف بابا بالم‘‘ نمائش کے لئے پیش کی گئی، جس کو کافی پسند کیا جارہا ہے اور یہ فلم باکس آفس پر بتدریج کامیابی حاصل کررہی ہے۔

فلم ’’سایہء خدائے ذوالجلال‘‘ بھی رواں ماہ ریلیز ہوئی جس میں 1965ء کی جنگ کے سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ فلم کی فریمنگ انتہائی خوبصورت انداز میں عکسبند کی گئی۔ فلم کی کہانی مضبوط نہ سہی مگر مناسب ضرور تھی لیکن فلم نے اداکاری اور مکالمہ بازی کے شعبہ میں خاطر خواہ توجہ نہ دکھائی دی۔

2016ء میں ریلیز ہونے والی فلموں کا بطور جائزہ لینے کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو مستحکم ہونے میں ابھی ایک عرصہ درکار ہے، کیونکہ کہانی کسی بھی فلم کی جان ہوتی ہے جو کہ فلم میں بنیاد کا کام کرتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ امسال فلموں میں بے ہنگم، بکھری ہوئی، روایتی چربہ کہانیاں دیکھنے کو ملیں۔ پاکستانی فلم تکنیکی عوامل میں بہتری کی جانب آرہی ہیں لیکن اگر کہانی کے شعبہ میں کام نہ کیا گیا تو پاکستان فلم بین سینما کا رخ کرنا چھوڑ دیں گے۔

رواں برس پاکستانی فلموں نے باکس آفس پر تقریباً 20 فیصد کاروبار کیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں گھٹا ہے۔ تاہم 2016ء کا سورج پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے تشویش اور سوالات لے کر غروب ہورہا ہے، جس نے ثابت کیا ہے کہ مبالغہ آرائی سے حقائق نہیں چھپ سکتے بلکہ ایسا کرنے سے اعتماد زائل ہوتا ہے۔

لیکن اِس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم پاکستانی فلم انڈستری کی بہتری کے لیے اُمید ہی چھوڑ دیں، نہیں نہیں، بلکہ ہمیں اُمید رکھنی چاہیے کہ 2017ء پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے خوش آئند ثابت ہو ہاں، لیکن یہ اُمید ہوائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اِس اُمید کو پورا کرنے کے لیے فلم کے معیار کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلا برس رواں برس سے بھی بدتر ثابت ہوسکتا ہے۔ پھر جب تک پاکستانی فلموں کی کہانی مضبوط نہیں ہوتی، فلموں میں اچھے اور نئے آئیڈیا نہیں متعارف کروائے جاتے تب تک بہرحال ہمیں اِس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کا مقدر بالی ووڈ فلموں کی نمائش پر بھی منحصر ہے۔