ٹی ڈی اے پی نے خالص برآمدی آمدنی پر ٹیکس کاٹنے کی سفارش کردی

اسلام آباد: برآمدات کی خام قیمت پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کے معاملے پر اسٹیٹ بینک پاکستان کے بعد ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے رجوع کرتے ہوئے برآمدات کی خام قیمت کے بجائے خالص ویلیو پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی سفارش کردی ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ٹی ڈیپ نے بھی ایف بی آر کو خط لکھ دیا ہے جس میں اسٹیٹ بینک کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیاکہ بینکوں کی جانب سے برآمدی اشیا کی خام ویلیو پر ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس سے برآمد کنندگان بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ بینکوں کے برآمدات کی خام ویلیو پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے پر اسٹیٹ بینک سے رجوع کیا گیا تھا جس پر جواب ملا کہ اس بارے میں ایف بی آر سے وضاحت مانگی گئی ہے، ایف بی آر کی وضاحت کے بعد بینکوں کو ہدایات جاری کی جائیں گی۔ لیٹر میں درخواست کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کے لیٹر پر جلد وضاحت جاری کی جائے تاکہ برآمدکنندگان کا یہ مسئلہ حل ہوسکے کیونکہ برآمدی آمدی ادائیگیوں میں سے متعلقہ بینک بھی ایجنسی کمیشن کی مد میں کٹوتی کرتا ہے اور اس کے بعد خام ویلیو پر ودہولڈنگ ٹیکس ادا کیا جائے تو برآمد کنندگان کو نقصان ہوتا ہے اور انکی برآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

دوسری طرف اسٹیٹ بینک نے ایف بی آر کو لیٹر میں بتایاکہ بینک برآمدات کی خام ویلیو کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کر رہے ہیں جبکہ برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ برآمدات ادائیگیوں سے غیرملکی بینکوں کے چارجز، غیر ملکی ایجنٹ کا ایجنسی کمیشن، ڈسکاؤنٹ کے علاوہ دیگر چارجز منہا کرنے کے بعد ودہولڈنگ ٹیکس لیا جائے کیونکہ اشیا کی خام قیمت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی سے برآمد کنندگان بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ایکسپورٹرز کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کے حوالے سے پہلے سے ہی مشکلات درپیش ہیں، ان حالات میں ملکی برآمدات کی خام ویلیو پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی نقصان دہ ہے۔

دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ایف بی آر سے درخواست کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 154 کے تحت برآمدی زرمبادلہ پر برآمدی اشیا کی خام ویلیو کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کے بارے میں وضاحت کی جائے، ایف بی آر کی وضاحت کے مطابق بااختیار بینکوں اور ڈیلرزکو ہدایت کی جائے گی۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے اس بارے میں جواب بھجوادیا جائے گا۔

via: Express news